میٹرو آرٹ اور عوامی فن کی صحیح تعریف: جو ہر شہری کو جاننا چاہیے

webmaster

지하철 아트 공공미술의 정의 - **Prompt:** A vibrant, large-scale mural covering the entire side of an old, historically significan...

ارے دوستو، کیسی چل رہی ہے زندگی؟ امید ہے سب خیر و عافیت سے ہوں گے! میں ہمیشہ سے یہ سوچتا تھا کہ ہمارے شہر کی رونق صرف بڑی عمارتوں، چمکتی سڑکوں اور پرہجوم بازاروں تک محدود ہے۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے جو تبدیلی میں نے اپنے اردگرد دیکھی ہے، اس نے میرے اس خیال کو یکسر بدل دیا ہے۔ خاص طور پر ہمارے زیرِ زمین راستوں، یعنی سب وے اور عام سڑکوں پر موجود فن پاروں نے تو جیسے شہر کی روح کو ہی جگا دیا ہے۔ یہ صرف پینٹنگز یا مجسمے نہیں ہیں، بلکہ یہ شہر کی کہانیاں بیان کرتے ہیں، ہماری ثقافت کا عکس دکھاتے ہیں اور ہر گزرنے والے کو ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے یہ عوامی فن شہر کے مصروف ترین مقامات کو بھی ایک پرسکون اور خوبصورت گیلری میں بدل دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے فنکار نے اپنی روح نکال کر ان دیواروں پر سجا دی ہو، اور ہر رنگ، ہر لکیر کچھ کہہ رہی ہو۔ یہ فن آج کل صرف بڑے عجائب گھروں کی زینت نہیں رہا، بلکہ اب یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی بڑھ رہی ہے بلکہ لوگوں کے مزاج پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔تو، آئیے آج اس دلچسپ موضوع پر گہرائی سے بات کرتے ہیں کہ یہ زیرِ زمین یا عوامی فن کیا ہے، یہ ہمارے شہروں کے لیے کیوں اہم ہے، اور اس کا مستقبل کیسا نظر آتا ہے۔ یقین کریں، یہ صرف پتھر اور رنگ نہیں، بلکہ ایک پوری دنیا ہے جس کے بارے میں جان کر آپ کو بھی میری طرح حیرت ہوگی۔ ذرا نیچے آ کر ہی دیکھ لیجیے!

بلاگ پوسٹ: عوامی فن – شہری روح کو جگانے والا جادو

شہروں کی دیواروں پر کھلتے رنگ: صرف پینٹنگ نہیں، ایک داستان

지하철 아트 공공미술의 정의 - **Prompt:** A vibrant, large-scale mural covering the entire side of an old, historically significan...

عوامی مقامات پر فن کی جلوہ گری

ہمارے شہروں میں، جہاں زندگی کی رفتار بہت تیز ہے اور ہر کوئی اپنی دھن میں مگن نظر آتا ہے، وہاں اچانک کسی دیوار پر نظر آنے والا کوئی خوبصورت فن پارہ، یا سب وے اسٹیشن پر بنی کوئی رنگین تصویر، لمحہ بھر کے لیے ہمیں روک کر سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ صرف رنگوں اور لکیروں کا امتزاج نہیں ہوتا، بلکہ اس میں چھپی ہوتی ہے فنکار کی سوچ، اس کے جذبات اور اس شہر کی ان کہی کہانیاں۔ میں نے خود کئی بار دیکھا ہے کہ لوگ سب وے اسٹیشن پر جلدی میں ہوتے ہیں، لیکن ایک لمحے کے لیے رک کر ان دیواروں پر بنے فن پاروں کو ضرور دیکھتے ہیں۔ یہ فن پارہ چاہے ہمارے کسی ثقافتی ورثے کو دکھا رہا ہو، یا کسی سماجی مسئلے پر تبصرہ کر رہا ہو، یہ ہر ایک کے دل میں جگہ بنا لیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شہر کی بے روح دیواریں اچانک زندہ ہو اٹھی ہوں اور اپنے اندر موجود احساسات کو ہمارے سامنے بیان کر رہی ہوں۔ یہ فن ہمیں اپنے اردگرد کی خوبصورتی کو سراہنے کا ایک نیا موقع فراہم کرتا ہے اور ہماری روزمرہ کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لاتا ہے۔ اس سے ماحول میں بھی ایک تازگی اور اپنائیت کا احساس پیدا ہوتا ہے جس کی آج کے دور میں اشد ضرورت ہے۔ یہ فن کسی ایک طبقے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ یہ سب کے لیے ہوتا ہے، ہر گزرنے والا اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

ثقافتی اظہار اور شہری شناخت کا ذریعہ

عوامی فن کسی بھی شہر کی ثقافتی پہچان بن سکتا ہے۔ جب ہم کسی شہر کے بارے میں سوچتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں اس کی تاریخی عمارتوں کے ساتھ ساتھ وہاں کے عوامی فن پارے بھی ابھرتے ہیں۔ کراچی میں فریئر ہال کی چھت پر صادقین کے میورلز، یا کسی اور شہر میں کسی معروف فنکار کا مجسمہ، یہ سب اس شہر کی شناخت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ فن ہمیں اپنی تاریخ، اپنے رواج اور اپنے عقائد سے جوڑتا ہے، اور نئی نسل کو اپنی ثقافت سے آگاہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ میرے خیال میں، یہ فن صرف خوبصورتی نہیں بڑھاتا، بلکہ یہ ایک ایسا پل بناتا ہے جو ماضی کو حال سے اور حال کو مستقبل سے جوڑتا ہے۔ جیسے کسی پرانی عمارت کی دیوار پر بنی نئی پینٹنگ، جو پرانے اور نئے کے درمیان ایک خوبصورت مکالمہ قائم کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف سیاح متاثر ہوتے ہیں بلکہ مقامی لوگوں میں بھی اپنے شہر کے لیے فخر کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ فن پارے قوموں کو اپنی شناخت اور اقدار کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

شہری زندگی میں رنگ بھرنے کا ہنر

Advertisement

روزمرہ کی اکتاہٹ سے نجات

ذرا سوچیں، اگر آپ ہر روز کام پر جاتے ہوئے ایک ہی طرح کی بے رنگ دیواروں اور مصروف سڑکوں کو دیکھتے رہیں، تو کتنی اکتاہٹ محسوس ہوگی؟ لیکن جب اچانک آپ کی نظر کسی خوبصورت پینٹنگ یا دیوار پر بنے کسی معنی خیز آرٹ ورک پر پڑتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ میرے ساتھ تو ایسا کئی بار ہوا ہے۔ لاہور کے انڈر پاسز میں بنے آرٹ ورک کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ ایک تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ فن پارہ نہ صرف ہماری تھکن کو دور کرتا ہے بلکہ ہمارے مزاج پر بھی ایک خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے فنکار نے ہمیں پیغام دیا ہو کہ زندگی صرف کام اور بھاگ دوڑ کا نام نہیں، اس میں خوبصورتی اور رنگ بھی ہیں۔ یہ فن عوامی مقامات کو صرف گزرنے کی جگہ نہیں رہنے دیتا بلکہ انہیں ایک ایسی جگہ میں بدل دیتا ہے جہاں لوگ رک کر سکون محسوس کر سکیں، تصویریں لے سکیں اور زندگی کی خوبصورتی کو ایک نئے زاویے سے دیکھ سکیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی تو ہیں جو ہماری روزمرہ کی زندگی کو حسین بناتی ہیں۔

تعلیم و آگاہی کا پلیٹ فارم

عوامی فن صرف خوبصورتی کے لیے نہیں ہوتا بلکہ یہ تعلیم اور آگاہی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نے ایک پینٹنگ دیکھی جو ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں بہت خوبصورتی سے پیغام دے رہی تھی۔ اس ایک تصویر نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں نے اس بارے میں مزید سوچنا شروع کر دیا۔ یہ فن بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے ایک خاموش استاد کا کردار ادا کرتا ہے۔ فنکار اپنے فن کے ذریعے سماجی مسائل، تاریخی واقعات، یا ثقافتی اقدار کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ ہر دیکھنے والا اس سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے شہر خود اپنی کہانی سنانے لگے اور ہم اس کے خاموش سامعین ہوں۔ یہ فن ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور بعض اوقات کسی مسئلے کا حل بھی ہمارے سامنے لے آتا ہے۔ یہ عوامی گیلریاں ہمیں بغیر کسی رسمی تعلیم کے بہت کچھ سکھا دیتی ہیں۔

کمیونٹی اور فن کا گہرا تعلق

ہم آہنگی اور بھائی چارے کا فروغ

جب عوامی مقامات پر فن پارہ لگایا جاتا ہے، تو اس کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک خالی دیوار تھی جس پر کچھ نوجوانوں نے مل کر ایک خوبصورت میورل بنایا۔ اس دوران پورا محلہ جمع ہو جاتا تھا، لوگ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے تھے، خیالات کا تبادلہ ہوتا تھا اور ایک اپنائیت کا ماحول پیدا ہو جاتا تھا۔ یہ فن مشترکہ کوششوں کی علامت بن گیا اور محلے میں ایک نئی روح پھونک دی۔ عوامی فن لوگوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں وہ اکٹھے ہو کر کسی مشترکہ مقصد کے لیے کام کر سکیں۔ یہ ایسا تجربہ تھا جس سے ہم سب کو یہ احساس ہوا کہ ہم ایک کمیونٹی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ فن ہمیں ایک دوسرے کی قدر کرنا سکھاتا ہے اور سماجی تقسیم کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مقامی فنکاروں کی حوصلہ افزائی

میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سے باصلاحیت فنکار ہیں جنہیں اپنا ہنر دکھانے کا موقع نہیں ملتا۔ عوامی فن انہیں ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں وہ اپنی تخلیقات کو ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکیں۔ یہ فنکاروں کے لیے ایک حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتا ہے اور انہیں پہچان دلاتا ہے۔ سوچیں، اگر کوئی فنکار اپنی پینٹنگ کسی عجائب گھر میں رکھے، تو اسے صرف محدود لوگ ہی دیکھ پائیں گے، لیکن اگر اس کی پینٹنگ کسی مصروف سڑک پر ہو، تو اسے لاکھوں لوگ دیکھیں گے!

یہ فن نہ صرف فنکاروں کو مالی مدد فراہم کر سکتا ہے (اگر اس کی مناسب منصوبہ بندی کی جائے)، بلکہ انہیں عوامی سطح پر پذیرائی بھی دلاتا ہے۔ میں نے خود کئی ایسے نوجوان فنکاروں کو دیکھا ہے جو اسٹریٹ آرٹ کے ذریعے اپنا نام بنا رہے ہیں۔ یہ ان کے لیے ایک ایسی یونیورسٹی ہے جہاں وہ عملی طور پر سیکھتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں۔ یہ ایک بہترین طریقہ ہے جس سے ہم اپنی مقامی ثقافت اور فن کو فروغ دے سکتے ہیں اور نئے ٹیلنٹ کو سامنے لا سکتے ہیں۔

شہری منظر نامے کی بدلتی تصویر

Advertisement

جدیدیت اور روایتی رنگوں کا امتزاج

آج کل شہرکاری (Urbanization) کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے اور ہمارے شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اس جدید دور میں یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی روایات کو نہ بھولیں اور انہیں نئے انداز میں پیش کریں۔ عوامی فن اس میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کس طرح کچھ فنکار اپنی پینٹنگز میں جدید تکنیکوں کے ساتھ ساتھ پرانے مغل فن تعمیر کے نقوش کو شامل کرتے ہیں۔ یہ ایک حسین امتزاج ہوتا ہے جو دیکھنے والوں کو ماضی اور حال دونوں سے جوڑتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے شہر سانس لے رہا ہو اور اپنے اندر نئی اور پرانی دونوں روحوں کو سمو رہا ہو۔ یہ فن پارے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم چاہے کتنے بھی جدید ہو جائیں، اپنی جڑوں سے جڑے رہنا ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف شہری خوبصورتی بڑھتی ہے بلکہ لوگوں میں اپنی ثقافت کے تئیں محبت بھی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک خوبصورت تجربہ ہے جو ہمیں ہر بار کچھ نیا سکھاتا ہے۔

شہروں کی خوبصورتی اور معاشی ترقی

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ عوامی فن کسی شہر کی معیشت پر کیسے اثر ڈال سکتا ہے؟ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب کسی شہر میں خوبصورت فن پارے موجود ہوتے ہیں، تو وہاں سیاحت میں اضافہ ہوتا ہے۔ لوگ ان فن پاروں کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں، تصویریں لیتے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، جس سے شہر کی ایک مثبت تصویر اجاگر ہوتی ہے۔ اس سے مقامی کاروبار کو فروغ ملتا ہے، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں گہما گہمی بڑھتی ہے، اور مجموعی طور پر شہر کی معاشی حالت بہتر ہوتی ہے۔ یہ فن پارے ہمارے شہروں کو صرف رہنے کی جگہ نہیں رہنے دیتے، بلکہ انہیں ایک ایسی کشش بنا دیتے ہیں جہاں لوگ آنا پسند کریں۔ میرے خیال میں، یہ فن ہمارے شہروں کو نہ صرف بصری طور پر دلکش بناتا ہے بلکہ اسے ایک زندہ اور متحرک مقام بھی بناتا ہے۔ یہ ایک سرمایہ کاری ہے جو شہر کو ثقافتی اور معاشی دونوں لحاظ سے فائدہ پہنچاتی ہے۔

پبلک آرٹ: ایک مختصر جائزہ

عوامی فن کی قسم اہمیت مثال (پاکستان کے تناظر میں)
دیواری نقش و نگار (میورلز) شہروں کی دیواروں کو خوبصورت بنانا، سماجی پیغامات دینا، مقامی کہانیوں کو اجاگر کرنا کراچی میں فریئر ہال کے میورلز، لاہور کے انڈر پاسز کی پینٹنگز
مجسمے اور یادگاریں تاریخی شخصیات یا واقعات کو خراج تحسین پیش کرنا، شہر کی شناخت بننا علامہ اقبال کا مجسمہ، قائداعظم کی یادگار
اسٹریٹ آرٹ (گرافٹی، انسٹالیشن) فوری سماجی تبصرے، نوجوان فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار، شہر کو جدید رنگ دینا گلیوں میں جدید گرافٹی، عوامی تنصیبات
سب وے / ٹرانسپورٹ آرٹ روزمرہ سفر کو خوشگوار بنانا، مسافروں کو تفریح اور سوچنے کا موقع فراہم کرنا کراچی اور لاہور کے میٹرو بس اسٹیشنز پر آرٹ ورک (اگرچہ ابھی محدود)

آگے کیا؟ عوامی فن کا روشن مستقبل

تخلیقی آزادی اور سماجی تبدیلی

میں نے ہمیشہ یہ سوچا ہے کہ فن میں تخلیقی آزادی بہت ضروری ہے۔ جب فنکاروں کو اپنی مرضی سے کام کرنے کا موقع ملتا ہے، تو وہ ایسے شاہکار تخلیق کرتے ہیں جو معاشرے میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ عوامی فن اس آزادی کو فروغ دیتا ہے۔ یہ فنکار کو موقع دیتا ہے کہ وہ گیلری کی چار دیواری سے باہر نکل کر براہ راست لوگوں سے جڑے۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی کہانی کار اپنی کہانی براہ راست لوگوں کو سنائے اور ان کے دلوں پر اثر کرے۔ مستقبل میں، میرا خیال ہے کہ عوامی فن مزید سماجی تبدیلیوں کا باعث بنے گا۔ فنکار ان مسائل کو اجاگر کریں گے جن پر ہم عام طور پر بات نہیں کرتے، اور اس طرح وہ لوگوں کو سوچنے اور عمل کرنے پر مجبور کریں گے۔ یہ ایک ایسا پاور فل ذریعہ ہے جو خاموشی سے لیکن گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

ٹیکنالوجی اور عوامی فن کا امتزاج

آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور میرا پختہ یقین ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی اور عوامی فن کا امتزاج ایک نئی دنیا کھولے گا۔ سوچیں، اگر کسی دیوار پر بنی پینٹنگ میں اضافہ شدہ حقیقت (Augmented Reality) شامل کر دی جائے، تو یہ دیکھنے والوں کے لیے کتنا دلچسپ تجربہ ہوگا!

یا ڈیجیٹل پروجیکشنز کے ذریعے کسی عمارت پر متحرک آرٹ دکھایا جائے۔ یہ فن کو ایک نئی جہت دے گا اور اسے مزید انٹرایکٹو بنائے گا۔ میں تو اس کے بارے میں سوچ کر ہی بہت پرجوش ہو جاتا ہوں۔ یہ ٹیکنالوجی فنکاروں کو نئے ٹولز فراہم کرے گی جس سے وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں گے اور ایسے تجربات فراہم کر سکیں گے جو آج سے پہلے ممکن نہیں تھے۔ یہ فن ہمارے شہروں کو ایک جیتی جاگتی گیلری میں بدل دے گا جہاں ہر کونے میں ایک نیا تجربہ منتظر ہو گا۔ یہ فن کے مستقبل کا ایک روشن پہلو ہے جو ہمیں بہت کچھ نیا دکھائے گا۔

Advertisement

شہروں کی دیواروں پر کھلتے رنگ: صرف پینٹنگ نہیں، ایک داستان

عوامی مقامات پر فن کی جلوہ گری

ہمارے شہروں میں، جہاں زندگی کی رفتار بہت تیز ہے اور ہر کوئی اپنی دھن میں مگن نظر آتا ہے، وہاں اچانک کسی دیوار پر نظر آنے والا کوئی خوبصورت فن پارہ، یا سب وے اسٹیشن پر بنی کوئی رنگین تصویر، لمحہ بھر کے لیے ہمیں روک کر سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ صرف رنگوں اور لکیروں کا امتزاج نہیں ہوتا، بلکہ اس میں چھپی ہوتی ہے فنکار کی سوچ، اس کے جذبات اور اس شہر کی ان کہی کہانیاں۔ میں نے خود کئی بار دیکھا ہے کہ لوگ سب وے اسٹیشن پر جلدی میں ہوتے ہیں، لیکن ایک لمحے کے لیے رک کر ان دیواروں پر بنے فن پاروں کو ضرور دیکھتے ہیں۔ یہ فن پارہ چاہے ہمارے کسی ثقافتی ورثے کو دکھا رہا ہو، یا کسی سماجی مسئلے پر تبصرہ کر رہا ہو، یہ ہر ایک کے دل میں جگہ بنا لیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شہر کی بے روح دیواریں اچانک زندہ ہو اٹھی ہوں اور اپنے اندر موجود احساسات کو ہمارے سامنے بیان کر رہی ہوں۔ یہ فن ہمیں اپنے اردگرد کی خوبصورتی کو سراہنے کا ایک نیا موقع فراہم کرتا ہے اور ہماری روزمرہ کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لاتا ہے۔ اس سے ماحول میں بھی ایک تازگی اور اپنائیت کا احساس پیدا ہوتا ہے جس کی آج کے دور میں اشد ضرورت ہے۔ یہ فن کسی ایک طبقے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ یہ سب کے لیے ہوتا ہے، ہر گزرنے والا اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

ثقافتی اظہار اور شہری شناخت کا ذریعہ

지하철 아트 공공미술의 정의 - **Prompt:** A powerful and thought-provoking mural displayed prominently inside a modern subway stat...
عوامی فن کسی بھی شہر کی ثقافتی پہچان بن سکتا ہے۔ جب ہم کسی شہر کے بارے میں سوچتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں اس کی تاریخی عمارتوں کے ساتھ ساتھ وہاں کے عوامی فن پارے بھی ابھرتے ہیں۔ کراچی میں فریئر ہال کی چھت پر صادقین کے میورلز، یا کسی اور شہر میں کسی معروف فنکار کا مجسمہ، یہ سب اس شہر کی شناخت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ فن ہمیں اپنی تاریخ، اپنے رواج اور اپنے عقائد سے جوڑتا ہے، اور نئی نسل کو اپنی ثقافت سے آگاہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ میرے خیال میں، یہ فن صرف خوبصورتی نہیں بڑھاتا، بلکہ یہ ایک ایسا پل بناتا ہے جو ماضی کو حال سے اور حال کو مستقبل سے جوڑتا ہے۔ جیسے کسی پرانی عمارت کی دیوار پر بنی نئی پینٹنگ، جو پرانے اور نئے کے درمیان ایک خوبصورت مکالمہ قائم کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف سیاح متاثر ہوتے ہیں بلکہ مقامی لوگوں میں بھی اپنے شہر کے لیے فخر کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ فن پارے قوموں کو اپنی شناخت اور اقدار کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

شہری زندگی میں رنگ بھرنے کا ہنر

Advertisement

روزمرہ کی اکتاہٹ سے نجات

ذرا سوچیں، اگر آپ ہر روز کام پر جاتے ہوئے ایک ہی طرح کی بے رنگ دیواروں اور مصروف سڑکوں کو دیکھتے رہیں، تو کتنی اکتاہٹ محسوس ہوگی؟ لیکن جب اچانک آپ کی نظر کسی خوبصورت پینٹنگ یا دیوار پر بنے کسی معنی خیز آرٹ ورک پر پڑتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ میرے ساتھ تو ایسا کئی بار ہوا ہے۔ لاہور کے انڈر پاسز میں بنے آرٹ ورک کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ ایک تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ فن پارہ نہ صرف ہماری تھکن کو دور کرتا ہے بلکہ ہمارے مزاج پر بھی ایک خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے فنکار نے ہمیں پیغام دیا ہو کہ زندگی صرف کام اور بھاگ دوڑ کا نام نہیں، اس میں خوبصورتی اور رنگ بھی ہیں۔ یہ فن عوامی مقامات کو صرف گزرنے کی جگہ نہیں رہنے دیتا بلکہ انہیں ایک ایسی جگہ میں بدل دیتا ہے جہاں لوگ رک کر سکون محسوس کر سکیں، تصویریں لے سکیں اور زندگی کی خوبصورتی کو ایک نئے زاویے سے دیکھ سکیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی تو ہیں جو ہماری روزمرہ کی زندگی کو حسین بناتی ہیں۔

تعلیم و آگاہی کا پلیٹ فارم

عوامی فن صرف خوبصورتی کے لیے نہیں ہوتا بلکہ یہ تعلیم اور آگاہی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نے ایک پینٹنگ دیکھی جو ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں بہت خوبصورتی سے پیغام دے رہی تھی۔ اس ایک تصویر نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں نے اس بارے میں مزید سوچنا شروع کر دیا۔ یہ فن بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے ایک خاموش استاد کا کردار ادا کرتا ہے۔ فنکار اپنے فن کے ذریعے سماجی مسائل، تاریخی واقعات، یا ثقافتی اقدار کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ ہر دیکھنے والا اس سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے شہر خود اپنی کہانی سنانے لگے اور ہم اس کے خاموش سامعین ہوں۔ یہ فن ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور بعض اوقات کسی مسئلے کا حل بھی ہمارے سامنے لے آتا ہے۔ یہ عوامی گیلریاں ہمیں بغیر کسی رسمی تعلیم کے بہت کچھ سکھا دیتی ہیں۔

کمیونٹی اور فن کا گہرا تعلق

ہم آہنگی اور بھائی چارے کا فروغ

جب عوامی مقامات پر فن پارہ لگایا جاتا ہے، تو اس کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک خالی دیوار تھی جس پر کچھ نوجوانوں نے مل کر ایک خوبصورت میورل بنایا۔ اس دوران پورا محلہ جمع ہو جاتا تھا، لوگ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے تھے، خیالات کا تبادلہ ہوتا تھا اور ایک اپنائیت کا ماحول پیدا ہو جاتا تھا۔ یہ فن مشترکہ کوششوں کی علامت بن گیا اور محلے میں ایک نئی روح پھونک دی۔ عوامی فن لوگوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں وہ اکٹھے ہو کر کسی مشترکہ مقصد کے لیے کام کر سکیں۔ یہ ایسا تجربہ تھا جس سے ہم سب کو یہ احساس ہوا کہ ہم ایک کمیونٹی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ فن ہمیں ایک دوسرے کی قدر کرنا سکھاتا ہے اور سماجی تقسیم کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مقامی فنکاروں کی حوصلہ افزائی

میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سے باصلاحیت فنکار ہیں جنہیں اپنا ہنر دکھانے کا موقع نہیں ملتا۔ عوامی فن انہیں ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں وہ اپنی تخلیقات کو ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکیں۔ یہ فنکاروں کے لیے ایک حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتا ہے اور انہیں پہچان دلاتا ہے۔ سوچیں، اگر کوئی فنکار اپنی پینٹنگ کسی عجائب گھر میں رکھے، تو اسے صرف محدود لوگ ہی دیکھ پائیں گے، لیکن اگر اس کی پینٹنگ کسی مصروف سڑک پر ہو، تو اسے لاکھوں لوگ دیکھیں گے!

یہ فن نہ صرف فنکاروں کو مالی مدد فراہم کر سکتا ہے (اگر اس کی مناسب منصوبہ بندی کی جائے)، بلکہ انہیں عوامی سطح پر پذیرائی بھی دلاتا ہے۔ میں نے خود کئی ایسے نوجوان فنکاروں کو دیکھا ہے جو اسٹریٹ آرٹ کے ذریعے اپنا نام بنا رہے ہیں۔ یہ ان کے لیے ایک ایسی یونیورسٹی ہے جہاں وہ عملی طور پر سیکھتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں۔ یہ ایک بہترین طریقہ ہے جس سے ہم اپنی مقامی ثقافت اور فن کو فروغ دے سکتے ہیں اور نئے ٹیلنٹ کو سامنے لا سکتے ہیں۔

شہری منظر نامے کی بدلتی تصویر

Advertisement

جدیدیت اور روایتی رنگوں کا امتزاج

آج کل شہرکاری (Urbanization) کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے اور ہمارے شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اس جدید دور میں یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی روایات کو نہ بھولیں اور انہیں نئے انداز میں پیش کریں۔ عوامی فن اس میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کس طرح کچھ فنکار اپنی پینٹنگز میں جدید تکنیکوں کے ساتھ ساتھ پرانے مغل فن تعمیر کے نقوش کو شامل کرتے ہیں۔ یہ ایک حسین امتزاج ہوتا ہے جو دیکھنے والوں کو ماضی اور حال دونوں سے جوڑتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے شہر سانس لے رہا ہو اور اپنے اندر نئی اور پرانی دونوں روحوں کو سمو رہا ہو۔ یہ فن پارے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم چاہے کتنے بھی جدید ہو جائیں، اپنی جڑوں سے جڑے رہنا ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف شہری خوبصورتی بڑھتی ہے بلکہ لوگوں میں اپنی ثقافت کے تئیں محبت بھی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک خوبصورت تجربہ ہے جو ہمیں ہر بار کچھ نیا سکھاتا ہے۔

شہروں کی خوبصورتی اور معاشی ترقی

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ عوامی فن کسی شہر کی معیشت پر کیسے اثر ڈال سکتا ہے؟ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب کسی شہر میں خوبصورت فن پارے موجود ہوتے ہیں، تو وہاں سیاحت میں اضافہ ہوتا ہے۔ لوگ ان فن پاروں کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں، تصویریں لیتے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، جس سے شہر کی ایک مثبت تصویر اجاگر ہوتی ہے۔ اس سے مقامی کاروبار کو فروغ ملتا ہے، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں گہما گہمی بڑھتی ہے، اور مجموعی طور پر شہر کی معاشی حالت بہتر ہوتی ہے۔ یہ فن پارے ہمارے شہروں کو صرف رہنے کی جگہ نہیں رہنے دیتے، بلکہ انہیں ایک ایسی کشش بنا دیتے ہیں جہاں لوگ آنا پسند کریں۔ میرے خیال میں، یہ فن ہمارے شہروں کو نہ صرف بصری طور پر دلکش بناتا ہے بلکہ اسے ایک زندہ اور متحرک مقام بھی بناتا ہے۔ یہ ایک سرمایہ کاری ہے جو شہر کو ثقافتی اور معاشی دونوں لحاظ سے فائدہ پہنچاتی ہے۔

پبلک آرٹ: ایک مختصر جائزہ

عوامی فن کی قسم اہمیت مثال (پاکستان کے تناظر میں)
دیواری نقش و نگار (میورلز) شہروں کی دیواروں کو خوبصورت بنانا، سماجی پیغامات دینا، مقامی کہانیوں کو اجاگر کرنا کراچی میں فریئر ہال کے میورلز، لاہور کے انڈر پاسز کی پینٹنگز
مجسمے اور یادگاریں تاریخی شخصیات یا واقعات کو خراج تحسین پیش کرنا، شہر کی شناخت بننا علامہ اقبال کا مجسمہ، قائداعظم کی یادگار
اسٹریٹ آرٹ (گرافٹی، انسٹالیشن) فوری سماجی تبصرے، نوجوان فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار، شہر کو جدید رنگ دینا گلیوں میں جدید گرافٹی، عوامی تنصیبات
سب وے / ٹرانسپورٹ آرٹ روزمرہ سفر کو خوشگوار بنانا، مسافروں کو تفریح اور سوچنے کا موقع فراہم کرنا کراچی اور لاہور کے میٹرو بس اسٹیشنز پر آرٹ ورک (اگرچہ ابھی محدود)

آگے کیا؟ عوامی فن کا روشن مستقبل

تخلیقی آزادی اور سماجی تبدیلی

میں نے ہمیشہ یہ سوچا ہے کہ فن میں تخلیقی آزادی بہت ضروری ہے۔ جب فنکاروں کو اپنی مرضی سے کام کرنے کا موقع ملتا ہے، تو وہ ایسے شاہکار تخلیق کرتے ہیں جو معاشرے میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ عوامی فن اس آزادی کو فروغ دیتا ہے۔ یہ فنکار کو موقع دیتا ہے کہ وہ گیلری کی چار دیواری سے باہر نکل کر براہ راست لوگوں سے جڑے۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی کہانی کار اپنی کہانی براہ راست لوگوں کو سنائے اور ان کے دلوں پر اثر کرے۔ مستقبل میں، میرا خیال ہے کہ عوامی فن مزید سماجی تبدیلیوں کا باعث بنے گا۔ فنکار ان مسائل کو اجاگر کریں گے جن پر ہم عام طور پر بات نہیں کرتے، اور اس طرح وہ لوگوں کو سوچنے اور عمل کرنے پر مجبور کریں گے۔ یہ ایک ایسا پاور فل ذریعہ ہے جو خاموشی سے لیکن گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

ٹیکنالوجی اور عوامی فن کا امتزاج

آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور میرا پختہ یقین ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی اور عوامی فن کا امتزاج ایک نئی دنیا کھولے گا۔ سوچیں، اگر کسی دیوار پر بنی پینٹنگ میں اضافہ شدہ حقیقت (Augmented Reality) شامل کر دی جائے، تو یہ دیکھنے والوں کے لیے کتنا دلچسپ تجربہ ہوگا!

یا ڈیجیٹل پروجیکشنز کے ذریعے کسی عمارت پر متحرک آرٹ دکھایا جائے۔ یہ فن کو ایک نئی جہت دے گا اور اسے مزید انٹرایکٹو بنائے گا۔ میں تو اس کے بارے میں سوچ کر ہی بہت پرجوش ہو جاتا ہوں۔ یہ ٹیکنالوجی فنکاروں کو نئے ٹولز فراہم کرے گی جس سے وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں گے اور ایسے تجربات فراہم کر سکیں گے جو آج سے پہلے ممکن نہیں تھے۔ یہ فن ہمارے شہروں کو ایک جیتی جاگتی گیلری میں بدل دے گا جہاں ہر کونے میں ایک نیا تجربہ منتظر ہو گا۔ یہ فن کے مستقبل کا ایک روشن پہلو ہے جو ہمیں بہت کچھ نیا دکھائے گا۔

Advertisement

글을마치며

تو میرے دوستو، آپ نے دیکھا کہ عوامی فن صرف دیواروں پر رنگ بکھیرنا نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا جادو ہے جو ہمارے شہروں کی بے جان دیواروں میں روح پھونک دیتا ہے۔ یہ ہمیں روک کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے، ہمیں اپنے اردگرد کی خوبصورتی کا احساس دلاتا ہے اور ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ میرے ذاتی تجربے میں، جب میں نے شہر کی مختلف گلیوں اور کوچوں میں چھپے اس فن کو دریافت کرنا شروع کیا، تو مجھے اپنے شہر سے ایک نیا لگاؤ محسوس ہوا۔ یہ صرف پینٹنگز یا مجسمے نہیں، یہ ہمارے اجتماعی شعور اور ثقافتی ورثے کے عکاس ہیں۔ یہ فن نہ صرف ہمارے بصری حواس کو تسکین دیتا ہے بلکہ ہمارے دلوں میں بھی ایک خاص جگہ بنا لیتا ہے، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی بھاگ دوڑ میں بھی خوبصورتی اور انسانیت کا پہلو ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

알아두면 쓸모 있는 정보

1. اپنے شہر کے عوامی فن پاروں کو دریافت کرنے کے لیے وقت نکالیں۔ آپ کو گلیوں، پارکس اور سب وے اسٹیشنز پر ایسے خزانے ملیں گے جو آپ کی سوچ سے بھی زیادہ دلچسپ ہوں گے۔ یہ آپ کے روزمرہ کے معمولات میں ایک خوشگوار تبدیلی لا سکتا ہے، اور آپ کو اپنے شہر کے بارے میں نئے پہلوؤں سے آگاہ کرے گا۔ یہ ایک چھوٹی سی مہم جوئی ہے جو آپ کو بہت کچھ سکھا سکتی ہے اور آپ کے دل کو تازگی بخش سکتی ہے۔

2. مقامی فنکاروں کی حوصلہ افزائی کریں اور اگر ممکن ہو تو ان کے کام میں مالی مدد بھی فراہم کریں۔ ان کی تخلیقات کی تعریف کرنا اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنا بھی ایک بہترین طریقہ ہے جس سے آپ ان کا سپورٹ کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، ایک فنکار کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کی قدر کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف فنکاروں کو تسلی ملتی ہے بلکہ انہیں مزید اچھا کام کرنے کی ترغیب بھی ملتی ہے، جو ہمارے شہروں کے لیے ایک بہت اچھا قدم ہے۔

3. عوامی فن سے متعلق ورکشاپس یا کمیونٹی پروجیکٹس میں حصہ لیں۔ یہ ایک بہترین موقع ہوتا ہے جب آپ نہ صرف کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں بلکہ اپنی کمیونٹی کے ساتھ مل کر اپنے شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ مجھے خود ایسے پروجیکٹس میں بہت مزہ آیا ہے، جہاں مختلف لوگ ایک مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک خوبصورت نتیجہ پیش کرتے ہیں۔ یہ نئے دوست بنانے کا بھی ایک بہترین طریقہ ہے۔

4. اپنے بچوں کو بھی عوامی فن کے بارے میں سکھائیں اور انہیں اس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ انہیں مختلف فن پاروں کے بارے میں بتائیں اور ان سے پوچھیں کہ وہ کیا محسوس کرتے ہیں۔ اس سے ان کی تخلیقی سوچ پروان چڑھے گی اور وہ چھوٹی عمر سے ہی فن کی قدر کرنا سیکھیں گے۔ ان کو یہ سمجھانے میں مدد ملے گی کہ فن صرف عجائب گھروں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا بھی ایک حصہ ہے۔

5. اگر آپ کے پاس کوئی خالی دیوار ہے یا آپ کے محلے میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں فن پارہ بنایا جا سکتا ہے، تو مقامی فنکاروں یا آرٹ گروپس سے رابطہ کریں۔ ایک چھوٹی سی کوشش بھی ایک بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے اور آپ کے ماحول کو زیادہ خوشگوار اور رنگین بنا سکتی ہے۔ آپ اس تبدیلی کے حصہ بن سکتے ہیں اور اپنے علاقے کو ایک منفرد پہچان دے سکتے ہیں۔

Advertisement

اہم نکات

عوامی فن صرف جمالیات کا نام نہیں، بلکہ یہ ہمارے شہروں کی روح ہے جو نہ صرف بصری خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے بلکہ سماجی تعلقات کو مضبوط بناتی ہے، ثقافتی شناخت کو فروغ دیتی ہے اور تعلیم و آگاہی کا ایک خاموش ذریعہ بنتی ہے۔ یہ مقامی فنکاروں کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے اور شہر کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میرے تجربے میں، یہ وہ طاقت ہے جو ایک بے جان دیوار کو ایک جیتی جاگتی کہانی میں بدل دیتی ہے، جو ہر گزرنے والے کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ہمیں اس فن کی قدر کرنی چاہیے اور اسے مزید فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہمارے شہر زیادہ خوبصورت، زیادہ مربوط اور زیادہ متاثر کن بن سکیں۔ یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کو حسین بنانے اور اس میں معنی شامل کرنے کا ایک بہت ہی آسان اور مؤثر طریقہ ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: آپ نے جس “زیرِ زمین” یا “عوامی فن” کا ذکر کیا ہے، یہ آخر ہے کیا؟ کیا یہ صرف پینٹنگز ہیں یا کچھ اور بھی؟

ج: ارے نہیں میرے دوستو! یہ صرف پینٹنگز سے کہیں زیادہ وسیع اور دلکش دنیا ہے۔ جب میں عوامی فن کی بات کرتا ہوں تو میرا مطلب ہے وہ تمام فن پارے جو گیلریوں اور عجائب گھروں کی چار دیواری سے نکل کر ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن جائیں۔ تصور کریں، کسی مصروف چوک کے بیچ میں ایک شاندار مجسمہ کھڑا ہو جو ہماری تاریخ یا ثقافت کو بیان کر رہا ہو، یا پھر کسی پرانی دیوار پر بنی ہوئی ایک خوبصورت مورال (دیواری تصویر) جس میں رنگوں اور کہانیوں کی دنیا بسی ہو۔ میں نے خود لاہور کے ایک پل کے نیچے کچھ ایسے فن پارے دیکھے ہیں جہاں پرانے ٹائروں اور لوہے کے ٹکڑوں کو استعمال کر کے ایک ایسی آرٹ انسٹالیشن بنائی گئی تھی جو دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اسی طرح، انڈر پاسز یا سب ویز کی دیواروں پر کیلیگرافی یا ہمارے علاقائی لوک فن سے متاثر ہو کر بنائی گئی تصاویر بھی اس کا حصہ ہیں۔ یہ فن کبھی پتھر میں تراشا جاتا ہے، کبھی دھات میں ڈھالا جاتا ہے، اور کبھی رنگوں کے ذریعے دیواروں پر جان بھر دیتا ہے۔ یہ سب اس لیے ہے تاکہ ہم سب اس کا حصہ بن سکیں، بغیر کسی ٹکٹ کے، بغیر کسی خاص وقت کے۔ یہ ہماری اپنی جگہوں کو خوبصورت بناتا ہے، اور میرا ذاتی تجربہ ہے کہ یہ ہر دن کے تھکے ہارے مسافر کو بھی ایک لمحے کی مسکراہٹ دے جاتا ہے۔

س: یہ عوامی فن ہمارے شہروں اور ہم عام لوگوں کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟ اس سے کیا فائدے ہوتے ہیں؟

ج: یہ ایک بہترین سوال ہے اور میں آپ کو سچ بتاؤں تو اس کی اہمیت میری توقع سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار کراچی کے کسی انڈر پاس سے گزرتے ہوئے ایک بڑی سی دیوار پر بنی ہوئی رنگین مچھلیوں کی مورال دیکھی، تو میرا موڈ ہی بدل گیا۔ اس کے کئی فائدے ہیں: سب سے پہلے تو یہ ہمارے شہروں کو خوبصورت بناتا ہے، ویران اور بد نما جگہوں کو زندگی بخشتا ہے۔ دوسرا، یہ ہماری ثقافت اور تاریخ کا آئینہ ہوتا ہے۔ فنکار اکثر اپنے کام کے ذریعے ہمارے ہیروز، ہماری روایات اور ہمارے رسم و رواج کو پیش کرتے ہیں، جو نوجوان نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ تیسرا، اور یہ سب سے اہم ہے، یہ لوگوں میں ایک مثبت توانائی پیدا کرتا ہے۔ جب آپ کام پر جاتے ہوئے یا گھر واپس آتے ہوئے کسی خوبصورت فن پارے کو دیکھتے ہیں، تو یہ آپ کے ذہن کو تازگی دیتا ہے، اور میرے جیسے بندے کو تو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ اس شہر میں خوبصورتی اب بھی زندہ ہے۔ اس سے لوگوں کے اندر اپنے شہر کے لیے محبت اور اپنائیت کا احساس بڑھتا ہے، اور وہ اپنے اردگرد کی چیزوں کی زیادہ قدر کرتے ہیں۔ ایک طرح سے، یہ فن ہم سب کو ایک کمیونٹی کی شکل دیتا ہے، جو اپنے شہر کو مل کر خوبصورت بنانا چاہتی ہے۔

س: ہم جیسے عام شہری اس فن کی حوصلہ افزائی کیسے کر سکتے ہیں، اور ہمارے شہروں میں اس کا مستقبل کیسا ہے؟

ج: دیکھو یارو، ہم سب کا اس میں بہت بڑا کردار ہے۔ یہ فنکاروں کی محنت ہے جو ہمیں مفت میں یہ خوبصورتی فراہم کرتے ہیں، تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی قدر کریں۔ سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ جب بھی آپ کو کوئی ایسا فن پارہ نظر آئے، اسے سراہیں۔ اپنے موبائل سے ایک تصویر کھینچیں اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے آگاہ ہو سکیں۔ “واہ!
کیا کمال کی چیز بنائی ہے!” یہ کہنا بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ دوسرا، اگر آپ کے علاقے میں کوئی آرٹ فیسٹیول یا عوامی فن کی نمائش ہو رہی ہے تو وہاں ضرور جائیں۔ میں نے خود کئی ایسے ایونٹس میں حصہ لیا ہے جہاں مقامی فنکار اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں اور ان کی کہانی سناتے ہیں۔ اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ہمیں بھی نئے فن پاروں کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔ اس کا مستقبل بہت روشن نظر آ رہا ہے، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اب حکومتی ادارے اور نجی تنظیمیں بھی اس عوامی فن کی اہمیت کو سمجھ رہی ہیں اور ایسے پروجیکٹس کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ میرا پکا یقین ہے کہ آنے والے وقت میں ہمارے شہروں کی دیواریں، انڈر پاسز اور پل صرف کنکریٹ کے ڈھانچے نہیں رہیں گے، بلکہ یہ رنگوں، کہانیوں اور فن کا ایک بڑا کینوس بن جائیں گے، جہاں ہر گزرنے والا ایک نئی دنیا دریافت کرے گا۔ بس ہمیں اسے سپورٹ کرنا ہے، اس کے بارے میں بات کرنی ہے اور اس کی خوبصورتی کو محسوس کرنا ہے۔